تیرے آنے کا تھا گماں کب سے
Poet: Muhammad Nawaz By: Muhammad Nawaz, sangla hillتیرے آنے کا تھا گماں کب سے
درد سینے میں تھا نہاں کب سے
یہ تفاخر یہ تیری بے نیازی
آپ بن بیٹھے ہو یزداں کب سے
کس پہ اب بجلیاں گراتے ہو
جل چکا میرا آشیاں کب سے
جاتے جاتے تھما گیا مجھ کو
فاصلے تھے جو درمیاں کب سے
دل ہے کہ ہوش ہی نہیں کرتا
گونجتی ہے کوئی اذاں کب سے
تیرے قدموں کی جانب کھینچتا ہے
دل ہے سینے میں پریشاں کب سے
اب کسے ڈھونڈتے ہو لفظوں میں
مٹ چکی میری داستاں کب سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






