تیرے آنے کی اک آھٹ سی ھوتی ھے
Poet: MZ By: MZ, karachiتیرے آنے کی اک آھٹ سی ھوتی ھے
نا جانے کیوں دل میں ھلچل سی ھوتی ھے
تجھے دیکھنے کو جی تو چاھتا ھے مگر
تیری آنکھوں میں اک شرارت سی ھوتی ھے
تم جو مسکرا کر ھمیں اک نظر دیکھو
ایسا لگتا ھے جیسے سحرا میں بارش سی ھوتی ھے
تم چلو ساتھ میرے عمر بھر کے لیے
تمھیں دیکھ کر اکثر یہ خواھش سی ھوتی ھے
میرے ھاتھوں کی لکیروں میں ھو شامل نام تیرا
میری تقدیر سے اکثر یہ گزارش سی ھوتی ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






