تیرے بن جینا بے کار ہے

Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.A

وہ جو روشنی میرے
ساتھ تھی
میرے روپ کا وہ
سنگھار تھی
وہ جو دل میں میرے
آس تھی
وہ آرزو تیرے
پاس تھی
وہ جو آنکھوں میں اک
پیاس تھی
میرے رتجگوں کا
احساس تھی
میری چوڑیوں میں جو
بات تھی
وہ راگوں کی
برسات تھی
وہ جو پائل کی
جھنکار تھی
وہی تجھ سے
ملاقات تھی
اب وہ سارے خواب
بھسم ہوئے
میری مانگ اب
اجڑ گئی
تیری زندگی جو
ختم ہوئی
اب وہ روشنی بھی
بجھ گئی
وہ روپ ماند
پڑ گیا
وہ دل کی آس
بچھڑ گئی
وہ آرزو بھی
سمٹ گئی
وہ آنکھوں کی پیاس
ناں رہی
میری راتیں ساری
لٹ گئیں
اب چوڑیوں میں ناں
وہ بات ہے
ناں وہ راگوں میں
برسات ہے
وہ جو پائل تھی اب
بچھڑ گئی
اب سارے لمحے
خاک ہیں
میرے سارے خواب
برباد ہیں
تو جو ناں رہا تو
کچھ نہیں
میرے آنسوں کو
دیکھ لے
میری سسکیوں کو
سمیٹ لے
میرے زخموں کو تو
ڈھانپ دے
میں اجڑ گئی مجھے
ساتھ لے
تو جس مٹی میں
سو گیا
اس مٹی سے ہم کو
پیار ہے
تیرے ساتھ ہوں تو
قرار ہے
تیرے بن جینا بے کار ہے

Rate it:
Views: 2291
13 Feb, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL