تیرے بن جینا بے کار ہے
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aوہ جو روشنی میرے
ساتھ تھی
میرے روپ کا وہ
سنگھار تھی
وہ جو دل میں میرے
آس تھی
وہ آرزو تیرے
پاس تھی
وہ جو آنکھوں میں اک
پیاس تھی
میرے رتجگوں کا
احساس تھی
میری چوڑیوں میں جو
بات تھی
وہ راگوں کی
برسات تھی
وہ جو پائل کی
جھنکار تھی
وہی تجھ سے
ملاقات تھی
اب وہ سارے خواب
بھسم ہوئے
میری مانگ اب
اجڑ گئی
تیری زندگی جو
ختم ہوئی
اب وہ روشنی بھی
بجھ گئی
وہ روپ ماند
پڑ گیا
وہ دل کی آس
بچھڑ گئی
وہ آرزو بھی
سمٹ گئی
وہ آنکھوں کی پیاس
ناں رہی
میری راتیں ساری
لٹ گئیں
اب چوڑیوں میں ناں
وہ بات ہے
ناں وہ راگوں میں
برسات ہے
وہ جو پائل تھی اب
بچھڑ گئی
اب سارے لمحے
خاک ہیں
میرے سارے خواب
برباد ہیں
تو جو ناں رہا تو
کچھ نہیں
میرے آنسوں کو
دیکھ لے
میری سسکیوں کو
سمیٹ لے
میرے زخموں کو تو
ڈھانپ دے
میں اجڑ گئی مجھے
ساتھ لے
تو جس مٹی میں
سو گیا
اس مٹی سے ہم کو
پیار ہے
تیرے ساتھ ہوں تو
قرار ہے
تیرے بن جینا بے کار ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے







