تیرے جنوں کے سامنے یہ زمانہ کیا ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

تیرے جنوں کے سامنے یہ زمانہ کیا ہے
جو تجھ سے نہ کہا گیا وہ فسانہ کیا ہے

خودی اور بیخودی کے درمیان الجھا رہتا ہے
جو لفظوں میں نہیں ڈھل پایا وہ افسانہ کیا ہے

ارے جو بار بار تیری گلی سے گزرتا ہے
ذرا پوچھو تو سہی کہ وہ دیوانہ کیا ہے

دشت الفت میں بھٹکتا رہا جو ساری عمر
وہ جو ناداں ہے تو بتلاؤ فرزانہ کیا ہے

نگاہوں سے چھلکتا ہے لبوں تک آ نہیں پاتا
جو یہ نہیں تو بھلا اور پیمانہ کیا ہے

ہماری دوستی پہ آج تمہیں کیوں شبہ ہوا
اگر شبنم سہیلی ہے تو رخسانہ کیا ہے

ایک ٹوٹا ہوا تارا جو میں نے کل شب دیکھا تھا
کسی کو علم ہے کہ اس کا ٹھکانہ کیا ہے

یہی اک بات میرا دل مجھے سمجھاتا رہتا ہے
جو روٹھا ہی نہیں پھر اس کو منانا کیا ہے

مجھے معلوم ہے عظمٰی بہت انمول ہوتے ہیں
ذرا سی پات پہ اشکوں کا بہانا کیا ہے

Rate it:
Views: 391
14 Mar, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL