تیرے حسن کی تازگی
Poet: A.R Ajiz By: A-R Ajiz, Lahoreتیرے حسن کی تازگی رشک قمر ہو گئی
دیکھا جس نے وہ نظر مبتلائے سحر ہو گئی
تیرے چہرے کی شادابی کچھ یوں رنگ لائی
کہ میری تاریک شب میں سحر ہو گئی
آج تو عنادل بھی یہ نغمہ الاپتی ہیں
گلشن دل پہ جیسے بہار کی نظر ہو گئی
آئے جو رخ زیبا پہ بال تیرے
یوں لگا جیسے صبح و شب شیر و شکر ہو گئی
ہم تو دل دے بیٹھے تھے اسی وقت
جب تیری پہلی نظر پیوست جگر ہو گئی
اب تو جان دینے سے بھی نہ گھبرائیں گے
ہمیں تم سے محبت اس قدر ہوگئی
تیری الفت کو تو دل میں چھپا کے رکھا تھا
نا جانے ظالم دنیا کو کیسے خبر
رات بھر قلم چلا تعریف حسن جاناں میں
اب تو اٹھ پیارے دیکھ سحر ہو گئی
آخر میں بس اتنا تو کہہ دے عاجز
مانگی تھی جو دعائے محبت وہ با اثر ہو گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







