تیرے خواب اترے

Poet: Parveen Shaker By: Syed Attiq Ali Naqvi, Lahore

دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اترے
وہ ماہتاب ہی اترا نہ اس کے خواب اترے

کہاں وہ رت کی جبینوں پر آفتاب اترے
زمانہ بیت گیا ان کی آب و تاب اترے

میں اس سے کھل کے ملوں‘ سوچ کا حجاب اترے
وہ چاہتا ہے میری روح کا نقاب اترے

اداس شب میں کڑی دھوپ کے لمحوں میں
کوئی چراغ کوئی صورت گلاب اترے

کبھی کبھی تیرے لہجے کی شبنمی ٹھنڈک
سماعتوں کے دریچوں پے خواب خراب اترے

فصیلِ شہرِ تمنا کی زرد نیلوں پر
تیرا جمال کبھی صورتِ سحاب اترے

تیری ہنسی میں نئے موسموں کی خوشبو تھی
نوید ہو کے بدن سے پرانے خواب اترے

سپردگی کا مجسم سوال بن کے کھلوں
مثال قطرہ شبنم تیرا جواب اترے

تیری طرح میری آنکھیں بھی معتبر نہ رہیں
سفر سے قبل ہی رستوں میں وہ سراب اترے

Rate it:
Views: 1751
04 Sep, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL