تیرے دم سے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachi میرے سوکھے ان گلابوں پہ نکھار تیرے دم سے
میرے اجڑے اس چمن میں یہ بہار تیرے دم سے
تیری دید کے نشے سے چڑھا بے خودی کا عالم
میرے ذہن پر ہے طاری یہ خمار تیرے دم سے
میرے رت جگوں کا باعث یہ جنوں تیری عطا ہے
میرے جسم پر ہیں زخموں کے ابھار تیرے دم سے
تیری بے زخی نے چھینی میری شوخی بزلہ سنجی
میری شخصیت میں آیا یہ وقار تیرے دم سے
جنہیں قرب تو نے بخشا مجھے ان سے ہے رقابت
یہ رقابتوں کے قصوں کا شمار تیرے دم سے
تیرے آنے کی خوشی سے یہ اشہر ہوا ہے پاگل
یہ بناؤ تیری خاطر یہ سنگار تیرے دم سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






