تیرے دیدار کی کرنوں سے
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukتیرے دیدار کی کرنوں سے سحر ہوتی ہے
تیرے جلووں کو کہاں اس کی خبر ہوتی ہے
میں نے اے جانِ وفا تم سے محبت کی ہے
میں نے اک حسن کے شعلے کی عبادت کی ہے
عشق پُر جوش جنوں خیز ہوا کرتا ہے
میں نے تو آگ میں جلنے کی ہی چاہت کی ہے
ایسے پروانوں کی بےباک نظر ہوتی ہے
تیرے جلووں کو کہاں اس کی خبر ہوتی ہے
تیری الفت کو سدا دل میں بسایا میں نے
تیرا افسانہ زمانے کو سنایا میں نے
تیرے دامن کو بھرا میں نے صنم پھولوں سے
تیرا ہر غم بھی کلیجے سے لگایا میں نے
داستاں پیار کی دنیا میں امر ہوتی ہے
تیرے جلووں کو کہاں اس کی خبر ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







