تیرے رو برو تیرے پاس ھوں
Poet: MZ By: MZ, karachiوہ جو داعوے دار ھے شھر میں
کہ میں سب ہی کا نبض شناس ھوں
کبھی آکر مجھ سے تو پوچھتا
کہ میں کس کے غم میں اداس ھوں
یہ تیری جدائی کا غم نھیں
یہ تو سلسلے ہی روز کے
تیری زات اس کا سبب نھیں
کئی دن سے یوں ہی اداس ھوں
یہ تیری امید کو کیا ھوا
کبھی تو نے غور نھیں کیا
کسی روز تو نے کھا تو تھا
تیری سانس تیری آس ھوں
یہ میری کتاب حیات ھے
اسے دل کی آنکھ سے پڑھ زرا
میں ورق ورق تیرے سامنے
تیرے رو برو تیرے پاس ھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






