تیرے عشق میں خودی کو مٹا سکتا نہیں
Poet: Badar Naseer By: Badar Naseer, lalamusaتیرے عشق میں خودی کو مٹا سکتا نہیں
تم نہ چاہو تو تجھے اپنا بنا سکتا نہیں
تمہاری کروں بندگی تیری محبت کی انتہا نہیں
اگر ہو نہ رضا تیری تو منزل پا سکتا نہیں
حسرت دل ہے خودی کو تیری راہ میں مٹانے کی
اگر ہو نہ ساتھ تیرا تو خودی کو مٹا سکتا نہیں
اس دل میں اپنی محبت کی شمع جلا دے
تیری جلائی شمع اور کوئی بجھا سکتا نہیں
کیا کروں تیرا نام لیے بغیر راحت قلب نہیں ملتا
بدر تیرے سوا کسی اور کو اپنا سکتا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






