تیرے لئے بھی کبھی تو لازمی تھے ہم
Poet: میر اسامہ ٹالپر وحشت By: Usama Talpur, Hyderabad, Sindhتیرے لئے بھی کبھی تو لازمی تھے ہم
عشق تھا وہ یا فقط آرضی تھے ہم
وہ کلاس کی کھڑکی سے تجھے یوں تکنا
وہ یاد ہے بچپن میں کتنے شرارتی تھے ہم
وہ ہمیں دیکھ کر تیری آنکھوں کا بھر جانا
تیری آنکھوں کی کبھی روشنی تھے ہم
اتنا ظلم کیا تھا تم نے ہماری ذات پر
بھول گئے تھے تم شاید کے آدمی تھے ہم
آج وہ منہ موڑ کر جائے گا تو که دونگا
یاد ہے تمھیں کے کبھی ساتھ بھی تھے ہم
بس یہی سوچ کر وحشت جدا رہنے لگے ہم
بے وفا تھے تم اور برے آدمی تھے ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






