تیرے لیے یہ دل کبھی پتھر نہیں ہوا
Poet: انم نقوی By: انم نقوی, Karachiتیرے لیے یہ دل کبھی پتھر نہیں ہوا
تیری طلب رہی تُو ہمسفر نہیں ہوا
ترے انتظار میں کئی برسوں گزر گئے
تری دید کا اک پل بھی میسر نہیں ہوا
تم جیسے کی تلاش میں پھرتی رہی برسوں
ترے سوا کوئی نظروں کا محور نہیں ہوا
جسےدیکھ کےتھم جاتی ہیں وقت کی نبضیں
دنیا میں کوئی تجھ سا وہ گہر نہیں ہوا
تخلیق ہے آدم کی محبت کی خاک سے
چاہت نہ ہو دل میں ایسا بشر نہیں ہوا
جو کھیل ہی میں ہار دے جان کی بازی
وہ کبھی قسمت کا سکندر نہیں ہوا
غیروں کےقریں دیکھ کےتمکو,ہنسوں کیسے
اتنا بڑا ابھی میرا جگر نہیں ہوا
محبت کی مسافت کو سمجھےگابھلاکیا
جو راہِ محبت میں مسافر نہیں ہوا
وہ دل بھی زمانے میں کسی کام کا نہیں
وہ دل جو محبت کا سمندر نہیں ہوا
واقف ہو حالِ دل سے اور بات نہ کرے
الفت میں کوئی اتنا بھی پتھر نہیں ہوا
پوچھے گا بتا دوں گی میں ان کو حالِ دل
یادوں کا سلسلہ تو مختصر نہیں ہوا
اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے






