تیرے نام
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTاک آس جو سینے میں چھپا رکھی تھی
الہی تو ڑ نی تھی تو کیوں بنا رکھی تھی
آ نسوؤ ں کی اک لہر بہا کر لے گئ اسے
میں نے ہو نٹوں کے ساحل پہ جو دعا رکھی تھی
کو ئ حرف لکھا نہ تھا کہ وہ ٹو ٹ گئ
تیرے نام کیلئے جو تختی بنا ر کھی تھی
ا ندھیری رات میں بچھڑ گیا وہ اجا لے کیطرح
اسکی فطرت میں بھی شا ید جفا رکھی تھی
میرے تصور سے اترتی نہیں وہ معصوم سی صورت
دل میں اتنی چا ہت اسکے لیے جگا رکھی تھی
خاموش لبوں سے آ یا وہ اور خاموش ہی چل دیا
شاید اس نے خاموش رہنے کی قسم کھا رکھی تھی
موت کا اک جھو نکا بجھا گیا اس کو امتیا ز
شمع زندگی جو تیز ہواؤ ں میں بھی جلا رکھی تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






