تیرے وعدے، تیری باتیں، تسلیاں سب کچ تھے
Poet: Ammar Ansar By: Ammar Ansar, Gujratتیرے وعدے، تیری باتیں، تسلیاں سب کچ تھے
بدلتے ہوئے موسموں کے اندیشے سب سچ تھے
ذندہ رہتا ہے کسی کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا
میں ابھی ذندہ ہوں تمہارے اندازے سب سچ تھے
بہت نا گوار تھا تجھے مڑ مڑ کے یوں دیکھنا
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کے الفاظ سب سچ تھے
تم نے سمجھا تھا شغل وقت گزاری کا
مگر میری چاہت، میرا خلوص سب سچ تھے
گئے دنوں کی شاموں کو کریدنا مناسب نہیں
نیلا پانی، گرتے پتے، تیز ہوا سب سچ تھے
قائم رہوں گا شدت سے جہاں چھوڑ کے جا رہے ہو
لوٹ سکو تو جان لو میرے وعدے سب سچ تھے
زندگی جھوٹ ہے، موت سچ ہے مگر
تیری آغوش میں گزرے لمحات سب سچ تھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






