تیرے پیار کی مستی
Poet: Kaiser Mukhtar By: Kaiser Mukhtar, HONG KONGتیرے پیار کی مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
دوستی کی سر مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
یہ خواب ہے نشہ ہے حیات
تیرے پیار کا مزا ہے حیات
تیرے حُسن کی سر مستی ہے سب
ورنہ تو بے مز ا ہے حیات
تیرے عشق کی کشتی میں ہم جھوُم کے گائیں
تیرے پیا ر کی مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
ہم نے تو حسن یار کی پرستش کی ہے
تیرے قدموُں کی رفتار کی پرستش کی ہے
میں ناچوُں تیرے ماتھے کا جھوُمر بن کر
ہم نے تو زلف یار کی پرستش کی ہے
تیرے دیدارکی خرمستی میں ہم جھوُم کے گائیں
تیرے پیار کی مستی میں ہم جھوُم کے گائیں
تیرے وصل کی تمنا بے تاب کرے
نشے میں چوُر تیرے نہیں کی شراب کرے
میری حیات کا حاصل ہے کہ اب
میرا فسانہ تیرے حُسن کی کتاب کرے
ارمانوں کی بستی میں ہم جھوم کے گائیں
تیرے پیار کی مستی میں ھم جھوُم کے گائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







