جا بجا بکھری ہیں بہت سی نشانیاں
Poet: UA By: UA, Lahoreجا بجا بکھری ہیں بہت سی نشانیاں
ان گنت انمول کہی ان کہی کہانیاں
سوچیں تو سوچتے رہیں دیکھیں تو دیکھتے رہیں
کیوں لَٹ گئیں بہار میں اَٹھتی جوانیاں
کہنے کو بہت کَچھ ہے کرنے کو بہت کَچھ ہے
کَچھ کہہ رہی ہیں غور کرو بے زبانیاں
کَچھ پنچھیوں کے غول بادِ خزاں کے باد
پھر ڈھونڈنے چلے ہیں رَتاں سَہانیاں
عظمٰی شبابِ نو کی سب ادائیں یاد ہیں
وہ سَبک رَو روانیاں وہ تَند رَو جولانیاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






