جاتے جاتے یہ بات کہے جاتے ہیں ۔۔۔

Poet: Dr. Humera Islam By: Dr. Humera Islam, Karachi.

تیرے شہر میں اتنی سردی ہے ظالم
مرے آنسوں میری آنکھوں میں جمے جاتے ہیں

جو شکوے آنکھ سے ہوجائیں ظاہر
وہ پھر کب منہ سے کہے جاتے ہیں

اتنی جلدی نہ اٹھا مجھ کو جگانے والے
میرے کچھ خواب ادھورے سے رہے جاتے ہیں

کبھی خوشیوں کی تمنا نہیں پالی ہم نے
غم کے ریلے میں چپ چاپ بہے جاتے ہیں

کسی خاموش عبارت ہے تیری آنکھوں میں
جن کے الفاظ ترے چہرے سے پڑھے جاتے ہیں

اپنی باتوں سے مجھے خوف خود بھی آتا ہے
وہ ایسے سچ ہیں جو منہ پہ کہے جاتے ہیں

جو بھی غم دیا آپ نے سر آنکھوں پہ
سمجھ کے ان کو مقدر، سہے جاتے ہیں

کھو کے پچھتاؤ گے ہمیں سن لو
جاتے جاتے یہ بات کہے جاتے ہیں

Rate it:
Views: 406
06 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL