جاتے وقت جس نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaنیند بھی تھی ، نیند
کا انتظار بھی تھا
آنکھوں سے اشک جاری تھے
اور شاید ! کوئی خواب بھی تھا
ساری دنیا سے
طلعق ترک تھا لکی
صرف اک شخص ، اک
ُاسی شخص سے
سوال بھی تھا
وہ مجبور تھا ، یا مجبور ہو گیا
مجھے اپنے ساتھ ساتھ
ُاس کا احساس بھی تھا
کہتی ہیں دنیا ُاسے بےوفا
میں کیسے کہوں ُاسے بے وفا
کہ خدا کے بعد مجھے
اک ُاسی پے اعتبار بھی تھا
جاتے وقت جس نے
مڑ کر بھی نہیں دیکھا
غضب تو یہ ہے ، کہ ُاسے بھی
وصال کا اتنظار بھی تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






