جان ترے وصال کا لب سے سوال بھی گیا

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

جان ترے وصال کا لب سے سوال بھی گیا
بچھڑا تھا اس ادا سے وہ اس کا ملال بھی گیا

کارِ وفا شعار تھا، سو تھا کسی زمانے میں
اب تو یہ حال ہے مرا اُس کا خیال بھی گیا

بھولنا تجھ کو میری جاں گو کہ کبھی محال تھا
جب وہ گماں رہا نہیں تب وہ محال بھی گیا

ہوش و ہوس تبہ ہوئے جان ترے گمان میں
اپنا زوال بھی گیا اپنا کمال بھی گیا۔

اپنا حسابِ زندگی کیسے کروں بتا مجھے
تیرا فراق بھی گیا تیرا وصال بھی گیا

تجھ سے بچھڑ کہ میری جاں چین قرار سب گیا
جانیے کیا سہا گیا زورِ سوال بھی گیا

شوقِ فدائی ہی وہ تھا جس نے کیا تبہ مجھے
نبض جنون ڈوبتے ہی میرا حال بھی گیا

Rate it:
Views: 493
15 Apr, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL