جان سے اَپنی جب گزرتا ہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

جان سے اَپنی جب گزرتا ہے
پھول خوشبو سے تب بچھڑتا ہے

تتلی اَندر سے ٹُوٹ جاتی ہے
پھول جب ٹُوٹ کر بکھرتا ہے

غم سے جب دِل کا ظرف بھر جائے
دیپ اِک آنکھ میں اُبھرتا ہے

اِک صَفِ غم ہے دائمی دِل میں
روز اَندر سے کوئی مرتا ہے

روتے روتے جہاں میں آیا ہُوا!۔
جانے کے نام سے بھی ڈرتا ہے

موت ہے دُوسرے جہاں کی حیات
آدمی صرف پار اُترتا ہے

نام لیتی ہے آپ کا دَھڑکن
دِل تو پھر مر کے ہی ٹھہرتا ہے

وُہ کبھی آئینے میں جھانکیں تو
آئینہ دیکھ کر سنورتا ہے

عشق والوں کو نہ کرو رُسوا
عشق رُسوائیوں سے بڑھتا ہے

لیلیٰ کو دیکھ لو ، تو سمجھو گے!۔
قیس کیوں ’’لیلیٰ لیلیٰ‘‘ کرتا ہے

 

Rate it:
Views: 659
12 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL