جان من ہم نے کبھی تم سے شکایت کی ہے؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیہ نہیں سوچنا کہ تم نے یہ حالت کی ہے
جان من ہم نے کبھی تم سے شکایت کی ہے؟
نارسائی سے بھلا جذبے کہاں مرتے ہیں
خاک حاصل کیلئے ہم نے محبت کی ہے
پھول کا رنگ فضاؤں میں بکھرنا چاہے
ہو نہ ہو آپکے ہونٹوں نے شرارت کی ہے
آج ہے جس پہ گئے وقت کی پرچھائیاں سی
مدتوں ہم نے اسی دل پہ حکومت کی ہے
کیسی حیرانی کہ اطراف میں پھیلے خوشبو
بات یہ ساری دل و جان صداقت کی ہے
خاک پہ رکھی جو احساس ندامت سے جبیں
لوگ سمجھے کہ بڑی آج عبادت کی ہے
دامن دل میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
آپ نے ہم سے الجھنے کی حماقت کی ہے
حسن کے راز چھلکنے کی گھڑی آ پہنچی
عشق نے آج پلٹنے کی جسارت کی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






