جان نثا ر وطن
Poet: ودود By: Earlene Ece, Chenab Nagar میراگھراس نے جلایا تھا
ہم راکھ چھپائے بیٹھے ہیں
کیسے کہیں راہ محبت ہے
وہی آگ لگائے بیٹھے ہیں
چمن جسنے خود ہی سجایا
وہ غبار اڑائے بیٹھے ہیں
وطن لیا اسلام کی خاطر
آج خود بھلائے بیٹھے ہیں
اے کم نظر، دیکھ ہم سب کچھ
وطن پر لٹائے بیٹھے ہیں
دھرتی میں خونی کھیل سے
وہ ہاتھ رنگائے بیٹھے ہیں
ستم، بچوں کو یتیم بنا کر
اپنی انا بچا ئے بیٹھے ہیں
سر پہ سے دوپٹہ اچھال کر
سب کفن دلائے بیٹھے ہیں
حفاظت وطن کی خاطر آج
سرحد دہکائے بیٹھے ہیں
ستم ہے ، رقص کرتی زندگی
ہم تیر رقصائے بیٹھے ہیں
قید و پابند سلاسل ہیں
اب سر کٹوائے بیٹھےہیں
اے ارض وطن تیری رہ میں
پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں
قسم اسوقت کی جب پکارے
نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں
مٹی جبین ودل سے لگا کر
سجدہ گاہ بنائے بیٹھے ہیں
بجھا کے شمع زندگی وہ چلے
شمع رجا جلائے بیٹھے ہیں
یا رب تیری آس لئے دن رات
اب من سلگائے بیٹھے ہیں
ودود تڑپالے تن من دھن
مَلَک پر بچھائے یٹھے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






