جانے وہ عشق کیسا تھا گاؤں میں رہ گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجانے وہ عشق کیسا تھا گاؤں میں رہ گیا
چکر سا ایک میرے بھی پاؤں میں رہ گیا
بوڑھا ہوا درخت تو پنچھی بھی اڑ گئے
اک یاد کا نشان ہی چھاؤں میں رہ گیا
میں روشنی تھی اُس کی زمیں پر بکھر گئی
بچھڑا ہوا وہ چاند خلاؤں میں رہ گیا
اس زندگی کے بخت میں جس سے بہار تھی
خوشبو کے بعد پھول خزاؤں میں رہ گیا
جب تِیرگی کے شور میں سناٹا مر گیا
پھر زندگی کا درد صداؤں میں رہ گیا
وشمہ زمینِ عشق پہ سجدہ کیا تو پھر
اک ذکر تیرا میری دعاؤں میں رہ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






