جانے کب شہرِ غریباں میں اُجالا ہو گا
Poet: adil baggi By: Adeel Abbas ADIL BAGGI, jauharabadجانے کب شہرِ غریباں میں اُجالا ہو گا
جانے کب شہرِ غریباں میں اُجالا ہو گا
میرے گلشن کو بھی خاروں سے ازالہ ہو گا
دکھ سبھی دور اور ہر طرف مسکان عیاں
چار سو چار سمت خوشیوں کا ہالہ ہو گا
زرِبلاد سے نہ ہو گی پھر شکمِ سیری
گرد ہم وطنوں کے حدود کا جالا ہو گا
نہ کسی حِزب نے پھر شہر کی گلیوں پہ
تلفی ءِ حق کا جلوس نکالا ہو گا
وطن نہ سوچا میں نے تجھ کو توڑتے لمحے
تجھے قائد نے بڑے کرب سے ڈھالا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






