جانے کس امید پر آس لگائے بیٹھا ہے یہ دل
Poet: Noor By: Noor, Oman Muscatاک پل میں ہی اکثر رستے بدل جایا کرتے ہیں
منزل پر پہنچ کر ہمسفر چھوٹ جایا کرتے ہیں
عجب ہے یہ محبت کا دستور بھی نور
جو نا ہو مقدر میں وہی کیوں راس آیا کرتے ہیں
جب سے منہ موڑ لیا مجھ سے میری خوشیوں نے
تیرے لیے میرے جذبات مجھے بہت ستایا کرتے ہیں
جتنا بھی چاہوں کہ تجھ کو بھول جاؤں میں
تیرے ساتھ کہ پل اور بھی رولایا کرتے ہیں
اک زمانہ گزر گیا تجھ سے بچھڑے ہوئے مجھے
وہ حسین پل آج بھی میرا دل جلایا کرتے ہیں
نہ جانے کس امید پر آس لگائے بیٹھا ہے یہ دل
جانتے ہوئے بھی گزرئے زمانے کب لوٹ کے آیا کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






