جانے کہاں کہاں سے بلایا گیا ہوں میں
Poet: راشد علی مرکھیانی By: Rashid Ali Markhiani, Larkanaجانے کہاں کہاں سے بلایا گیا ہوں میں
تب آئینے کے سامنے پایا گیا ہوں میں
دو چار پل حیات کے دوچار تھے مجھے
اک عمر بے دلی سے نبھایا گیا ہوں میں
دیوار و در سے پھوٹتی رہتی ہے تیرگی
یعنی دیے کے ساتھ بجھایا گیا ہوں میں؟
تم کو کہیں دکھوں تو بلانا ضرور تم
جانے کہاں ہوں! کس کو تھمایا گیا ہوں میں
پہلے تو خوب خواب دکھائے گئے مجھے
تعبیر پاس تھی تو جگایا گیا ہوں میں
چھوٹی سی ایک بھول تھی اتنی سزا نہ دے
آیا نہیں زمین پہ! لایا گیا ہوں میں
تجھ پر نظر پڑی تو کھلا زندگی کا راز
راشد ترے لیے تو بنایا گیا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






