جانے کیسے کوئی مجھکو اتنا پیرا ہو گیا
Poet: Asghar Azimabadi By: Syed Asghar Hussain, Patnaجانے کیسے کوئی مجھکو اتنا پیرا ہو گیا
ہم اسی کے ہو گئے وہ بس ہمارا ہوگیا
موج کو ساحل کا جیسے ایک اشارہ ہو گیا
جس جگہ پہ جا لگی وہ ہی کنارہ ہو گیا
آمد معشوق کی آہٹ میں اتنا جوش تھا
بس نظر ٹکرائی اور سب وارا نیارا ہو گیا
منتظر جنکی نگاہیں تھی وہ اے دم بہ لب
ڈوبتی سانسوں کو تنکے کا سہارا ہو گیا
روشنی کو چاند بھی سورج بھی تھا دونو مگر
آپ کے آنے سے روشن یہ نظارہ ہو گیا
سینکڑوں تارے لئے چند تنہائی میں تھا
نور روخ یار کا یہ استیارا ہو گیا
پیش خدمت دل رکھا تھا ہم نے انکی راہ میں
بے وفا نے ایسا کچلا پارہ پارہ ہو گیا
کھا کے ٹھوکر عشق میں قسمیں تو کھائی تھی مگر
ایک نگہاہ حسن سے یہ پھر دوبارہ ہو گیا
بے وفائی کا ستم اس نے کیا اس شان سے
مسکراہٹ پر خدا حافظ گوارا ہو گیا
عشق کی حد میں ہو اے عاشقی کے کھیل میں
درد دل سے رابطہ اصغر تمہارا ہو گیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






