جانے کیوں؟
Poet: zain shakeel By: piya, gujratاب تو تم یاد بھی نہیں آتیں
اب کوئی بات بھی نہیں ہوتی
اب تو دل ٹوٹنے کا ڈر بھی نہیں
اب تو خدشہ نہیں جدائی کا
اب تو کھونے کو کچھ نہیں باقی
چاند ہمدردیاں نہیں کرتا
اب ستاروں سے بات چیت نہیں
اب کہاں انتظار راتوں کا
اب تو دن بھی اداس رہتے ہیں
اب تو خط بھی مجھے نہیں آتے
کوئی پیغام بھی نہیں لاتا
اب تو معمول ہی کچھ ایسا ہے
پھر بھی مجھ کو سمجھ نہیں آتا
آنکھ میں کیوں نمی سی رہتی ہے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






