جاوید صدیقی کے کچھ قطعات
Poet: جاوید صدیقی By: جاوید صدیقی, کراچیمیں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں کسی کے دل کی دھڑکن تھا کبھی
میں کسی کے خوابوں کا راجہ تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں حسین بھی اور خوبصورت تھا کبھی
رنگ و روپ کا اک شہزادہ سا تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں صنف نازک کی پلکھوں میں سجاتھا کبھی
میں حسینوں کے ذکر اور سرگوشیوں میں تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں محبت و پیار کی داستان کا کردار تھا کبھی
میںجانوں،دلبر،محبوب کے نام سے تھا کبھی
میں کسی کی سوچ کا دائرہ تھا کبھی
میں کسی کے خیالوں کا محور تھا کبھی
میں زندگی کے آخری لمحات سےگزر رہا ہوں
اے ریاض ماضی کے خیالوں سےگزر رہاہوں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






