جب سے تیری نظر میں رہتی ہوں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKجب سے تیری نظر میں رہتی ہوں
چاندنی کے نگر میں رہتی ہوں
خواہشوں کے اُڑن کھٹولے پر
ایک انجاں سفر میں رہتی ہوں
میں جسے اپنا کہہ نہیں سکتی
ایک ایسے ہی گھر میں رہتی ہوں
ہوں کبھی خوش تو میں کبھی غمگیں
دِل کے زیر و زبر میں رہتی ہوں
جِس کو میں بھی نہ چھوُ سکی اب تک
اُس دِلِ معتبر میں رہتی ہوں
مجھ کو اوروں کی کیا خبر ہو گی
خود سے بھی بے خبر میں رہتی ہوں
تم نے محسوس تو کیا ہوگا
میں تمہارے اثر میں رہتی ہوں
تارے گننے کے شوق میں عذرا
جاگتی رات بھر میں رہتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







