جب اپنےخون کےرشتوں کی تعظیم بھلائی جاتی ہے

Poet: سلیم سرمد By: Saleem Sarmad, DG KHAN

 جب اپنےخون کےرشتوں کی تعظیم بھلائی جاتی ہے
پھر ایک ہی گھر کے آنگن میں دیوار اٹھائی جاتی ہے

کیادور تھاوہ جب کوٹھوں پرتہذیب سکھائی جاتی تھی
افسوس کہ آج کے مکتب میں تخریب پڑھائی جاتی ہے

میں گو کہ حق پر قائم ہوں یہ مال و زر کیا داؤ پر
جب بات انا کی ہو تو پھر ہر چیز لگائی جاتی ہے

بارود ,دھواں اور زہر, لہو ہیں فصلیں میرے کھیتوں کی
اس قہر کی ماری دھرتی پہ ہر چیز اگائی جاتی ہے

اک بیتے کل کا برسوں سے احساس مقید ہے مجھ میں
جب آنکھیں لگنے لگتی ہیں زنجیر ہلائی جاتی ہے

دستور ہے دنیا والوں کا جب سب کچھ سرمد جل جاۓ
پھر اکثر میں نے دیکھا ہے کہ آگ بجھائی جاتی ہے

Rate it:
Views: 410
10 Jul, 2016
More Sad Poetry