جب بھی اس کا سلام ہوجائے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجب بھی اس کا سلام ہوجائے
خوشبو سے یہ کلام ہوجائے
حاجتوں کا پتہ نہیں ہے
آرزوئیں تمام ہوجائے
بیتے لمحات کی صدائیں
جب بھی تیرا پیام ہوجائے
شعر بے ساختہ اتر آئے
پھر سے مشکل مقام ہوجائے
دہر میں یوں چلی ہوائے
شب کی زلفوں کی شام ہوجائے
جو ہوا پر پیام ہوجائے
دل کے صحرا میں کھو گئے ہیں
دل پہ یوں اس کا نام ہوجائے
پیاس وہ بھی بجھا سکا نا
اسکی آنکھوں کا جام ہوجائے
تجھ کو وشمہ منا لوں شاہد
پھر یہ دل کا غلام ہوجائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






