جب بھی برسی عذاب کی بارش
Poet: امت احد By: نعمان, Quettaجب بھی برسی عذاب کی بارش
راس آئی شراب کی بارش
میں نے پوچھا کہ پیار ہے مجھ سے
اس نے کر دی گلاب کی بارش
میں نے تو اک سوال پوچھا تھا
اس نے کر دی جواب کی بارش
حسن والوں کے واسطے کر دے
اے خدا تو حجاب کی بارش
شاعری پر یقیں ہے برسے گی
ایک دن تو خطاب کی بارش
میں نے اک جام اور مانگا تھا
اس نے کر دی حساب کی بارش
دیر تک ساتھ بھیگے ہم اس کے
ہم نے یوں کامیاب کی بارش
پیار سے روک دی احدؔ میں نے
آج اس کے عتاب کی بارش
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






