جب بھی تم یاد آتے ہو اکثر

Poet: hira By: hira, gojra

جب بھی تم یاد آتے ہو اکثر
پرانی ڈائیری میں کھول لیتا ہوں

چند اوراق ہی پلٹتا ہوں
اور جی بھر کے رو لیتا ہوں

حیران ہوتا ہوں لکھی ہر تحریر دیکھ کر
تیرے وعدوں پہ اپنی ہر شام ڈبو لیتا ہوں

تمھاری میٹھی باتوں کو جب پڑھتا ہوں
پاگل سا ہنستے ہوئے دامن بگھو لیتا ہوں

یوں لگتا ہے تم پاس بہت پاس ہو میرے
تیرا چہرا اپنی آنکھوں میں سمو لیتا ہوں

وہ سوکھا ہوا پھول اور وہ خوشبو تیری
اپنی سانسوں میں بسا لیتا ہوں

بکھر سا جاتا ہوں پل بھر کے لیے
مگر خود کو مشکل سے سمیٹ لیتا ہوں

تب شب بھر میں جاگتا ہوں
صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے سو لیتا ہوں

Rate it:
Views: 1425
27 Oct, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL