جب بھی دیتا ہے وہ کچھ مجھے تو سزا دیتا ہے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadجب بھی دیتا ہے وہ کچھ مجھے تو سزا دیتا ہے
پر اس کی چاہت میں تڑپنا بھی مزا دیتا ہے
جب کبھی کھولتا ہے وہ سرشام زلفیں اپنی
تو پھر اس کا چلنا تو فضاؤں کو نشہ دیتا ہے
اس کی آنکھوں میں ہے شاید جھیلوں کی سی گہرائی
کہ دیکھنے والا تو بچانے کی صدا دیتا ہے
اس کی باتوں میں سحر ہے اسکی اداؤں میں نشہ ہے
ملنے والا تو اسے اپنی جان گنوا دیتا ہے
جو بھی دیکھے اسے ساجد اسکا دیوانہ ہو جائے
مرنے والا بھی اسے جینے کی دعا دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







