جب بھی وفا کی راہ میں ماتھے کے بل گئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, نیویارکجب بھی وفا کی راہ میں ماتھے کے بل گئے
پتھر رما وہ لوگ بھی خوشبو میں ڈھل گئے
وہ بھی خفا خفا سے تھے میں بھی جدا جدا
یوں زندگی کے ہاتھ سے دونوں نکل گئے
بیٹھےبٹھائے ایک دن اشکوں کے روپ
کچھ یوں ہوا کہ آنکھ سے سپنے پھسل گئے
کب تک اٹھا کے سر پہ پھروں زندگی کا بوجھ
جس کی لگائی آگ سے ارمان جل گئے
وشمہ تمہارے پیار کی سانسوں کی آنچ سے
ہونٹو ں پہ جتنے جام تھے سب پگھل گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






