جب بھی چاھے گا
Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: ASAD, mps جب بھی چاھے گا وہ رلا دے گا مجھے
عمر بھر تڑنے کی سزا دے گا مجھے
میں اس کے پیچھے برسوں برباد رہ
نہ تھی خبر خود سی ایذاء دے گا مجھے
لوگ بھی حیرتزدہ تھے اپنے اٹھنے پر
کسے معلوم تھا سر محفل اٹھا دے گا مجھے
یہ کیسا انساف تھا اس کی عدالت ک
سکتے میں ہوں بے جرم سزا دے گا مجھے
میں تو حق مٰن اسکے سدا خاموش رہ
مگر یہ صلہ؟ خود سر گلا دے گا مجھے
ہاں چلو یوں ہی سہی زحے نصیب اپنے
جیتےرھنےکی کوئی تو وجہ دے گا مجھے
میں تو پیار میں اس کے پاگل ٹہرہ
مگر کیا معلوم آنسو رلا دے گا مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






