جب تک اس کی جستجو میں تھا وہ مجھ سے دور تھا
Poet: aik banda By: aik banda, londonجب تک اس کی جستجو میں تھا وہ مجھ سے دور تھا
بہت سمجھایا یقیں دلایا مگر تجھے سمجھ نہ آیا
وہ الوداع آخر پر پلٹ کے بھی نہ دیکھا
میں کتنا ٹرپا تھا تو نے یہ بھی نہ سوچا
میں دعا گو رھا ملے وہ جو حق میں ھو بہتر
پھر تو نئی راہ کا مسا فر میں قید تنہائی کا عادی
ماہ و سال تو اب گزر گئے اس قید تنہائی میں
اب مجھے عشق ھے تنہائ سے تجھے شوق ھے قربت کا
میں پھلے بھی وفا دار تھا اب بھی وفادار ھوں
مجھے تیری روح سے محبت ھے اپنی تنہائ سے عشق
روح کو قربت کی حاجت نہیں تنہائ سے جدائی ممکن نہیں
جا محبت کو بدنام نہ کر مجھ پر یہ احسان نہ کر
اب عشق کو یوں سر عام نہ کر
جب تک اس کی جستجو میں تھا وہ مجھ سے دور تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






