جب تک وہ اپنے پاس کوئی غنیمت رکھتے رہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجب تک وہ اپنے پاس کوئی غنیمت رکھتے رہے
ہم ہر متاثری عالم کو اتنی اہمیت دیتے رہے
۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔
کتنی باریک تشنگی تھی کہ ہم نے غور نہیں کیا
پھر تو وہ گداگری مصیبت موڑتے رہے
۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔
دکھوں کی زربفت اپنی جھلک سے باہم ہیں
کبھی تقدیر نہ پھوٹی ، ہم حقیقت سے کٹتے رہے
۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔
ریزہ ریزہ خواب مل کر کتنے محل بنتے ہیں
مگر ان کے بعد زلزلے بھی ظریفت رکھتے رہے
۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔
کوچہ گردی کو بھی اک شجاع موج سمجھتی تھی
ان کے وحشی مزاج سے ہم واجبیت کٹتے رہے
۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔
ان کی ہر شوخی کو میں نے قابل قدر بنا دیا
لیکن سنتوشؔ ہم اپنی فضیلت سے تو گرتے رہے
۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






