جب تک ہمارے دل کےزخم نہیں رستے
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMجب تک ہمارےدل کےزخم نہیں رستے
تب تک ہم اکسی دل پہ شاعری نہیں کرتے
برسات کی صورت اشعار کی آمدہوتی ہے
پھولوں کی طرح مجھ پہ رہتےہیں برستے
اس مطلب کی دنیا سےکوئی سروکارنہیں
ہم لوگ تو ہر حال میں رہتےہیں ہنستے
کاش وہ مہمان میری زندگی میں چلےآہیں
جو آج تک میرےکےآنگن میں رہےبستے
دلوں کا احترام ضروری ہےہرکسی کےلیے
دل پھولوں جیسےہیں انہیں کبھی نہیں مسلتے
انہیں اصغر کےحال کی ابھی تک خبرہی نہیں
جن کی جدائی میں دن رات ہم رہتےہیں تڑپتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






