جب جب دنیا قوموں کے اعمال بگڑنے لگتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreجب جب دنیا قوموں کے اعمال بگڑنے لگتے ہیں
تب تب تب دنیا میں قوموں پہ زوال اترنے لگتے ہیں
کب کب کیسے کیسے کیسی کیسی صورت میں
دیکھتے دیکھتے قوموں کے آثار بدلنے لگتے ہیں
رب تعالیٰ نے بندوں کو ایک رسی تھمائی ہے
لیکن ہم انسان کئی فرقوں میں بٹنے لگتے ہیں
نادانوں سوچو سمجھو اور غور کرو کہ دنیا میں
انسانوں پر کیونکر یہ طوفان گزرتے لگتے ہیں
رب کے ماننے والے تو بس ایک خدا سے ڈرتے ہیں
لیکن اہل ہوس اک آہٹ سے بھی ڈرنے لگتے ہیں
خالق اپنے بندوں سے اک جیسی محبت رکھتا ہے
لیکن ناشکرے پھر بھی ناشکری کرنے لگتے ہیں
اہل وفا ہر حال میں رب کی رضا میں راضی رہتے ہیں
ناشکرے ہر حال میں شور و غوغا کرنے لگتے ہیں
خوشی ملے یا غم دونوں کو رب کی رضا سمجھتے ہوئے
رب کے بندے تو رب کی رحمت کا دم بھرنے لگتے ہیں
رب تعالیٰ نے انسانوں کو ایک ہی راہ دکھائی ہے
لیکن ناداں بندے رستے اور پکڑنے لگتے ہیں
عظمٰی ہم نے دیکھا ہے جو رب کی رضا پہ چلتے ہیں
پلک جھپکتے ان سب کے حالات سدھرنے لگتے ہیں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






