جب خواب پلکوں پہ نہ آتے ہوں
Poet: maria ghouri By: maria ghouri, haroonabadجب نیند سے آنکھیں بوجھل ہوں
جب خواب پلکوں پہ نہ آتے ہوں
جب ہر سو تنہائی کا رقص ہوتا ہو
جب موسم ہجر گیت سناتا ہو
جب چاند بھی بدلیوں میں چھپا رہتا ہو
جب روشن چراغ سانسوں کی لو سے بجھ جاتے ہوں
جب اتنا سناٹا ہو خاموشیاں بھی شور کرتی ہوں
جب آنسوؤں کی ٹپ ٹپ دامن بھگو جاتی ہو
جب کمرہ زندان سا محسوس ہونے لگ جاتا ہو
تب تم اک کام کرنا
سب خطوط جلا کر
سب یادیں بھلا کر
سب نقش محبت کے
دل سے مٹا کر
ہتھیلی سے اس
وحشت کی روشن
لکیر بجھا کر
خوش اسلوبی سے
محبت کا اختتام کرنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






