جب راز کھلا تو؟
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAدور دور رہ کر بھی وُہ پیاسا نکلا
ہاتھ بڑھایا تو وُہ بھی شناسا نکلا
جسے میں پیار سے عاری سمجھا تھا
میرا پیار تو اُس کا خاصہ نکلا
بھٹکتا رہا، میں غیر کے در پر
آنکھ کھلی تو زمانے کا جھانسہ نکلا
دنیا کو سمجھا تھا، اہل درد میں نے
جب راز کھلا تو فقط اک تماشا نکلا
جس بت کی میں کرتا رہا تھا پوجا
وُہ بت میرے ہی ہاتھ کا تراشا نکلا
آرزوؤں کا تاج محل جسے میں سمجھا تھا
جاوید کی آرزوؤں کا وہ لاشا نکلا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






