جب سے تیرا شہر سنسان سا لگتا ہے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiجب سے تیرا شہر سنسان سا لگتا ہے
میرا ٹھہراؤ وہاں لامکان سا لگتا ہے
سبھی آنکھ چُراکر گذر جاتے ہیں
ہر چہرہ جیسے انجان سا لگتا ہے
بھری بھیڑ میں کہیں جنبش نہ ملی
کوئی خاموشیوں کا آستان سا لگتا ہے
تم گئے تو بہاروں نے رخ موڑلیئے
سارا موسم ابکہ خزاں سا لگتا ہے
نہ لوٹو گے تو کہاں لوٹیں گی پھر
انہیں خوشیوں کا مجھے ارمان سا لگتا ہے
شاید یہی حال تیرے حال کے بعد ہوئا
یہ وقت بھی سنتوشؔ بے ایمان سا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






