جب سے ہم دونوں بچھڑے ہیں
Poet: M.Asghar Mirpuri By: M.Asghar Mirpuri, Birminghamاے دوست جب سے
ہم دونوں بچھڑےہیں
اس دن سے میں
بےچین رہتا ہوں
اگر فون کی گھنٹی
بجتی ہے تو چونک
جاتاہوں کہ شاید
تمہارا فون ہو
جب دروازے پہ
دستک ہوتی ہے
تو سوچتا ہوں کے
شاید تم ہو
جب ڈاک آتی ہے
تو پلک جھپکتے
ہی ساری ڈاک
دیکھ لیتا ہوں
مگر ہر بار
مایوسی ہوتی ہے
لگتا ہے کے
اب تمہارے آنے
کی آس ہی مجھے
زندہ رکھےہوئےہے
اور یہ مایوسی
زندگی بھر کی
ساتھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






