جب صبح روشن ہوتی ہے
Poet: nahid By: nahid alam, karachiجب صبح روشن ہوتی ہے
ماہتاب کہیں کھو جاتا ہے
شب کا آخری تارا بھی
چپکے سے سوجاتا ہے
رات کی سرمئی چادر سے
آفتاب کی پہلی کرن جھانکتی ہے
جیسے ہو کوئی کمسن دلہن
باد صبا کے نرم جھونکے
چوم کے منہ بند کلیوں کا
کھلتا پھول بنا دیتے ہیں
رات کے آنسو موتی بن کر
نظروں کو بھا جاتے ہیں
ابھی چمکتے ہیں ابھی کھو جاتے ہیں
کتنے پنچھی گاتے ہیں
سب ہی دل کو بھاتے ہیں
ایسے میں تیری یادوں کے
خشک پھول بھی مہک جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






