جب میرا چاند مجھے نظر آئے گا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaمیرا دل بھی پھر عید منائے گا،
جب میرا چاند مجھے نظر آئے گا،
ابھی رمضان ہے میرا روزہ جااری ہے
افطار اب تو وہی مجھے کرائے گا،
دے گا جب پیار کے نوالہے مجھے
دید کا پانی جب وہ پیلائے گا،
میں مہندی لگائوں گی پاتھوں پے
وہ حِنا محبت کی جب لائے گا،
ہونگی گلائی میری چوڑیوں سے بھری
وہ آکے مجھے پیار سے پہنائے گا،
تُم منائو عید مجھے تنہا رہنے دو
یہ اُداسی نہ کوئی دُور کر پائے گا،
نہال لوٹ آئو اِس عید پے تم ہر حال
دُوں گی وہ جو تُو چاہے گا،
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






