جب ہم اُس سے جدا ہوئے ہوں گے

Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوال

عشق جز کار رایگاں کچھ نئیں
وہ جو لگتا ہے جاوداں کچھ نئیں

خوب ہے بحث گو عقیدے کی
کیا یقین اور کیا گماں کچھ نئیں

یہ عجب ایک بات سی کیوں ہے
گر ترے میرے درمیاں کچھ نئیں

پڑھ چکا ہوں میں داستانِ وجود
وہ بھی افسوس جز گماں کچھ نئیں

یہ بتا تُو کہاں پہ رہتا ہے
ذات اور دِل کے درمیاں کچھ نئیں

رائگاں ہیں سبھی وجود اور عدم
یہ زمین تو کیا آسماں کچھ نئیں

آگ تو کیا بلکہ آگ کا سب کچھ
یعنی لُو، شعلہ اور دھواں کچھ نئیں

وہ جہاں ہے وہاں تو کچھ بھی نہیں
میں یہاں ہوں کہاں؟ یہاں کچھ نئیں

Rate it:
Views: 475
15 Sep, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL