جتنا سوچے برا ، بھلا میرا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجتنا سوچے برا ، بھلا میرا
وہ بگاڑے گا اب بھی کیا میرا
مجھ کو غیروں نے بڑھ کے تھام لیا
جب وہ دشمن تھا آشنا میرا
بھیک مانگی ہے اب دعاؤں کی
دردِ دل جب ہے لا دوا میرا
اب تو کر دو نا رنجشوں میں کمی
مجھ کو بخشو سنا ، کہا میرا
ایک تازہ گلاب ہوں بن میں
خوش بیانی ہے مشغلہ میرا
تھام ہاتھوں میں یاد کی تختی
نام لکھ لکھ کے اب مٹا میرا
اس کو فکرِ وفا نہ تھی وشمہ
کیسے کرتا وہ حق ادا میرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






