جدائی
Poet: SAHIL SAGAR AKLANI MEMON By: Sahil SAGAR AKLANI MEMON, Tando Jamاک تیری جدائی اس کے اوپر زمانے کے تانے
ہم نے بی کی ہے محبت دیکھ بے درد زمانے
اک تیرا ہی غم ھے اس معصوم دل کے اندر
بس گئے دل مین کتنے تاریخی ویرانے
بے تحاشا چاھا تھا ہم نے جس کو
ھوگیا جدا ہم سے موت کے بہانے
اے خدا کہتا ھے زمانہ بے وفا تیرا یار ہے
ویی وصل سے ھو جاتی ہے جان تیرے نذرانے
یہ بندھن محبت کا نہ توڑا جاتا ھے اے ساحل
کیئے تم نے ھمیشہ محبت کے جھوٹے وعدے و افسانے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






